حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حقیقی منتظِر کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہتا ہے کہ ہم اپنے امام، حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کو کس طرح خوش کر سکتے ہیں۔ کیا اس کے لیے کسی خاص اور غیر معمولی عمل کی ضرورت ہے، یا عام زندگی میں ہی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اسی سوال کے جواب میں اخلاقیات کے معروف استاد حجت الاسلام والمسلمین فرجی نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام زمانہؑ زمین پر حجت خدا، اور بندوں کو صراطِ مستقیم پر چلانے والے رہنما ہیں۔ جو شخص ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے اور خدا کی اطاعت اختیار کرتا ہے، وہ اپنی استطاعت کے مطابق امامؑ کے دل کو خوش کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امام زمانہؑ ہماری بندگی، عبادت اور اطاعت سے خوش ہوتے ہیں، جبکہ گناہ، نافرمانی اور نفسانی خواہشات کی پیروی انہیں رنج پہنچاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اطاعت امامؑ کو خوش کرتی ہے اور معصیت انہیں ناراض کرتی ہے۔
حجت الاسلام فرجی نے روایات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ائمہ اہل بیتؑ اپنے ماننے والوں کے حالات سے باخبر رہتے ہیں۔ حضرت علیؑ سے منقول ہے کہ مومن کی خوشی اور غم، پہلے اہل بیتؑ کے دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معصومینؑ اللہ کی فیض رسانی کا ذریعہ ہیں اور ہمارے اعمال ان کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری نیکیاں امام زمانہؑ کے لیے باعثِ مسرت بنتی ہیں اور وہ ہمارے لیے دعا فرماتے ہیں، جبکہ گناہ ان کے دل کو رنج پہنچاتے ہیں، تاہم وہ ہمارے لیے مغفرت اور ہدایت کی دعا بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر ہم امام زمانہؑ کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی کو اعمالِ صالحہ، اچھے اخلاق اور تقویٰ سے مزین کرنا ہوگا، اور ہر قسم کی نافرمانی سے بچنا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو نیک بندہ بننے، امام زمانہؑ کے حقیقی مددگار بننے اور اپنے اعمال کے ذریعے ان کے دل کو خوش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ